لکھنؤ،10/جنوری (آئی این ایس انڈیا) یوپی پولیس سپریم کورٹ کا نوٹس لینے کے بعد مؤ کے باہو بلی ایم ایل اے مختار انصاری کو لینے پنجاب کے روپڑ پہنچی تھی،تاہم یوپی پولیس کو روپڑ جیل سپرنٹنڈنٹ پنجاب کو ایک نوٹس ملا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ پنجاب پولیس نے میڈیکل رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے مختار انصار ی کو پھر سے یوپی لینے جانے سے انکار کردیا ہے۔ پنجاب پولیس کا مؤقف ہے کہ مختار انصاری کی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر انہیں یوپی نہیں بھیجا جاسکتا۔
گذشتہ سال 21 اکتوبر کو غازی پور پولیس مختار انصاری کو الٰہ آباد کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں پیش کرنے کے لئے روپڑجیل گئی تھی، لیکن میڈیکل بورڈ نے مختار کو عدم صحت یاب ہونے کے باعث تین ماہ کے آرام کا مشورہ دیا تھا۔ اس کی وجہ سے غازی پور پولیس کو خالی ہاتھ واپس آنا پڑا۔
اس سے پہلے بھی مختارانصاری کو یوپی کی عدالتوں نے اسے تقریباً دو درجن بار طلب کیا گیا ہے، لیکن وہ عدالت میں حاضر نہ ہوسکے۔2019 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل مختار کو باندہ جیل سے پنجاب کی روپڑ جیل منتقل کردیا گیا تھا،بھتہ خوری کے مقدمہ میں انہیں پنجاب کی روپڑ جیل لایا گیا تھا۔